Farewell Sermon & Final Years
خطبہ حجۃ الوداع اور آخری ایام1. Introduction
The Farewell Sermon (Khutbah Hajjat-ul-Wida) delivered by Prophet Muhammad ﷺ is considered the first and most comprehensive charter of human rights in history. It was delivered during his only Hajj, known as the "Farewell Hajj," because he indicated that he might not be among the people the following year.
2. Historical Background
- Year: 10th Hijri (632 CE).
- Location: The valley of Uranah (Plain of Arafat).
- Attendees: Approximately 124,000 - 144,000 Companions (Sahaba).
- Significance: It summarized the core teachings of Islam and abolished the customs of the Days of Ignorance (Jahiliyyah).
3. The Farewell Sermon (Summary)
The Prophet ﷺ praised Allah and then said:
"O People, lend me an attentive ear, for I know not whether after this year, I shall ever be amongst you again."
"O People, just as you regard this month, this day, and this city as Sacred, so regard the life and property of every Muslim as a sacred trust."
"All the customs of the Days of Ignorance are under my feet. The usury (interest) of the pre-Islamic era is abolished."
"O People, it is true that you have certain rights with regard to your women, but they also have rights over you. Treat them well and be kind to them, for they are your partners and committed helpers."
"All mankind is from Adam and Eve. An Arab has no superiority over a non-Arab, nor a non-Arab has any superiority over an Arab; also a white has no superiority over a black, nor a black has any superiority over a white except by piety and good action."
"I leave behind me two things, the Quran and my Sunnah, and if you follow these you will never go astray."
4. Key Messages
Blood and property are sacred.
All forms of Riba are forbidden.
Treat women with kindness.
No racism; superiority is only by Piety (Taqwa).
5. Passing Away (Visal)
On Monday, 12th Rabi-ul-Awwal, 11 Hijri, the Prophet ﷺ passed away. His head was resting on the lap of Aisha (RA). His final words were:
"O Allah! (I choose) The Highest Companion."
1. تعارف
نبی کریم ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع انسانی تاریخ کا سب سے عظیم اور جامع منشورِ حقوق (Charter of Human Rights) ہے۔ یہ خطبہ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری حج کے موقع پر دیا، جسے "حجۃ الوداع" کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں آپ ﷺ نے اشارہ دے دیا تھا کہ شاید وہ اگلے سال لوگوں کے درمیان نہ ہوں۔ یہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
2. حجۃ الوداع کا پس منظر
- سن: 10 ہجری (ذی الحجہ)۔
- مقام: میدانِ عرفات۔
- حاضرین: تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد صحابہ کرام۔
- اہمیت: اس موقع پر دینِ اسلام کی تکمیل کا اعلان ہوا اور جاہلیت کی تمام رسومات کو ختم کر دیا گیا۔
3. خطبہ حجۃ الوداع (مکمل متن)
آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا:
"اے لوگو! میری بات غور سے سنو، میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا یا نہیں۔"
"اے لوگو! تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی، اس مہینے کی اور اس شہر (مکہ) کی حرمت ہے۔"
"خبردار! جاہلیت کی تمام رسومات میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ جاہلیت کے زمانے کے تمام خون معاف ہیں۔ سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا خون، یعنی ربیعہ بن حارث کا خون معاف کرتا ہوں۔"
"سود (Riba) کی تمام قسمیں ختم کر دی گئی ہیں۔ اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا، یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود ختم کرتا ہوں۔"
"لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ حاصل کیا ہے۔ تمہارا ان پر حق ہے اور ان کا تم پر حق ہے۔ ان کے ساتھ بھلائی کا سلوک کرو۔"
"اے لوگو! سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کا مال لے، سوائے اس کے کہ وہ خوشی سے دے۔"
"خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں، نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر کوئی برتری حاصل ہے۔ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔"
"میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، اگر تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب (قرآن) اور دوسری اس کے رسول ﷺ کی سنت۔"
آخر میں آپ ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا: "اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔"
4. خطبہ کے اہم نکات
ہر مسلمان کی جان اور عزت محترم ہے۔
معاشی استحصال اور سود حرام ہے۔
عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم۔
نسلی تعصب کا خاتمہ، معیار صرف تقویٰ ہے۔
5. وصالِ مبارک
12 ربیع الاول، 11 ہجری (پیر کا دن) تاریخ کا سب سے غمگین دن تھا۔ آپ ﷺ کا سر مبارک حضرت عائشہؓ کی گود میں تھا۔ آپ ﷺ نے مسواک کی، آنکھیں کھولیں اور چھت کی طرف دیکھ کر آخری الفاظ ادا کیے:
"اے اللہ! (میں چنتا ہوں) سب سے اعلیٰ رفیق کو۔"
